اردو - سورہ واقعہ - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ واقعہ

اختر القاريء


اردو

سورہ واقعہ - آیات کی تعداد 96
إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ( 1 ) واقعہ - الآية 1
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ( 2 ) واقعہ - الآية 2
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ( 3 ) واقعہ - الآية 3
کسی کو پست کرے کسی کو بلند
إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ( 4 ) واقعہ - الآية 4
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ( 5 ) واقعہ - الآية 5
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں
فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ( 6 ) واقعہ - الآية 6
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ( 7 ) واقعہ - الآية 7
اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ
فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ( 8 ) واقعہ - الآية 8
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ( 9 ) واقعہ - الآية 9
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( 10 ) واقعہ - الآية 10
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ( 11 ) واقعہ - الآية 11
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ( 12 ) واقعہ - الآية 12
نعمت کے بہشتوں میں
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 13 ) واقعہ - الآية 13
وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے
وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 14 ) واقعہ - الآية 14
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ( 15 ) واقعہ - الآية 15
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ( 16 ) واقعہ - الآية 16
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ( 17 ) واقعہ - الآية 17
نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ( 18 ) واقعہ - الآية 18
یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ( 19 ) واقعہ - الآية 19
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ( 20 ) واقعہ - الآية 20
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ( 21 ) واقعہ - الآية 21
اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے
وَحُورٌ عِينٌ ( 22 ) واقعہ - الآية 22
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں
كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ ( 23 ) واقعہ - الآية 23
جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی
جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 24 ) واقعہ - الآية 24
یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ( 25 ) واقعہ - الآية 25
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ
إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا ( 26 ) واقعہ - الآية 26
ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)
وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ ( 27 ) واقعہ - الآية 27
اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں
فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ ( 28 ) واقعہ - الآية 28
(یعنی) بےخار کی بیریوں
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ ( 29 ) واقعہ - الآية 29
اور تہہ بہ تہہ کیلوں
وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ ( 30 ) واقعہ - الآية 30
اور لمبے لمبے سایوں
وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ ( 31 ) واقعہ - الآية 31
اور پانی کے جھرنوں
وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ ( 32 ) واقعہ - الآية 32
اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں
لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ( 33 ) واقعہ - الآية 33
جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے
وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ ( 34 ) واقعہ - الآية 34
اور اونچے اونچے فرشوں میں
إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ( 35 ) واقعہ - الآية 35
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا
فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ( 36 ) واقعہ - الآية 36
تو ان کو کنواریاں بنایا
عُرُبًا أَتْرَابًا ( 37 ) واقعہ - الآية 37
(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر
لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 38 ) واقعہ - الآية 38
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 39 ) واقعہ - الآية 39
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 40 ) واقعہ - الآية 40
اور بہت سے پچھلوں میں سے
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ( 41 ) واقعہ - الآية 41
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ( 42 ) واقعہ - الآية 42
(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں
وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ( 43 ) واقعہ - الآية 43
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں
لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ( 44 ) واقعہ - الآية 44
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ( 45 ) واقعہ - الآية 45
یہ لوگ اس سے پہلے عیشِ نعیم میں پڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ( 46 ) واقعہ - الآية 46
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ( 47 ) واقعہ - الآية 47
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ( 48 ) واقعہ - الآية 48
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ( 49 ) واقعہ - الآية 49
کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ( 50 ) واقعہ - الآية 50
(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ( 51 ) واقعہ - الآية 51
پھر تم اے جھٹلانے والے گمرا ہو!
لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ( 52 ) واقعہ - الآية 52
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ( 53 ) واقعہ - الآية 53
اور اسی سے پیٹ بھرو گے
فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ( 54 ) واقعہ - الآية 54
اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے
فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ( 55 ) واقعہ - الآية 55
اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں
هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ( 56 ) واقعہ - الآية 56
جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی
نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ( 57 ) واقعہ - الآية 57
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ( 58 ) واقعہ - الآية 58
دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو
أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ( 59 ) واقعہ - الآية 59
کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ( 60 ) واقعہ - الآية 60
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ( 61 ) واقعہ - الآية 61
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ( 62 ) واقعہ - الآية 62
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ( 63 ) واقعہ - الآية 63
بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو
أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ( 64 ) واقعہ - الآية 64
تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ( 65 ) واقعہ - الآية 65
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ( 66 ) واقعہ - الآية 66
(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ( 67 ) واقعہ - الآية 67
بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ( 68 ) واقعہ - الآية 68
بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو
أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ( 69 ) واقعہ - الآية 69
کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ( 70 ) واقعہ - الآية 70
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ( 71 ) واقعہ - الآية 71
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ( 72 ) واقعہ - الآية 72
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ( 73 ) واقعہ - الآية 73
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 74 ) واقعہ - الآية 74
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ( 75 ) واقعہ - الآية 75
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ( 76 ) واقعہ - الآية 76
اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ( 77 ) واقعہ - الآية 77
کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے
فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ( 78 ) واقعہ - الآية 78
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( 79 ) واقعہ - الآية 79
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ( 80 ) واقعہ - الآية 80
پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے
أَفَبِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ( 81 ) واقعہ - الآية 81
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ( 82 ) واقعہ - الآية 82
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ( 83 ) واقعہ - الآية 83
بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے
وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ( 84 ) واقعہ - الآية 84
اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ( 85 ) واقعہ - الآية 85
اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے
فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ( 86 ) واقعہ - الآية 86
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو
تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 87 ) واقعہ - الآية 87
تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ( 88 ) واقعہ - الآية 88
پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے
فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ( 89 ) واقعہ - الآية 89
تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 90 ) واقعہ - الآية 90
اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 91 ) واقعہ - الآية 91
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ( 92 ) واقعہ - الآية 92
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ( 93 ) واقعہ - الآية 93
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ( 94 ) واقعہ - الآية 94
اور جہنم میں داخل کیا جانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ( 95 ) واقعہ - الآية 95
یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 96 ) واقعہ - الآية 96
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو

کتب

  • يهوديت اور شيعيت کے مشترکہ عقائديهوديت اور شيعيت کے مشترکہ عقائد : یہ کتاب مصنف حفظہ اللہ کی عمدہ ونادرشاہکارمیں سے ایک ہے جسکے اندریہودیت اورشیعیت کی اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے اوریہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام کے خلاف سب سے پہلا فکری یلغار عبد اللہ بن سبا یہودی یمنی کی طرف سےٍ کیا گیا جس نے بظاہر اسلامی لبادہ پہن کر اسلام کے خلاف ایسا رکیک حملہ کیا جس کا زخم آج تک مندمل نہیں ہوسکا ,نیزیہ ثابت کیا گیا ہےکہ یہودیت اورشیعیت کے افکاروعقائد کافی حد تک مماثل ومشابہ ہیں گویا کہ شیعیت, یہودیت کی شاخ وپیداوار یا ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں

    تاليف : ابو عدنان سھیل

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/76614

    التحميل :يهوديت اور شيعيت کے مشترکہ عقائد

  • 70 سچے اسلامى واقعاتفی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغو افسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچے واقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔ زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70 واقعات کا انتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کو شادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کا لٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/320008

    التحميل :70 سچے اسلامى واقعات

  • محفل میلاد چند قابل غور نکتےقارئین کرام! یہ بات کسی پرمخفی نہیں کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ نصیحت کی تھی کہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور دین کے نام پرایجاد کردہ خود ساختہ نئے امور سے بچتے رہنا-لیکن افسوس کی بات ہے کہ آپ کی اس قیمتی نصیحت کو پس پشت ڈال کربے شمار بدعتیں ایجاد کرلی گئیں’اور انکو جاہلوں اور نادانوں نے یا اسلام دشمنوں نے یا نفس پرستوں نے یا خواہشات کے بندوں نے یا پیٹ کے پجاریوں نے خوب خوب فروغ دیا اور پروان چڑھایا –صورت حال یہ ہوگئی کہ بدعت کو لوگ سنتت سمجھنے لگے اور حقیقی دین اجنبی بن گیا ’ "جشن میلاد" بھی انہیں بدعات میں سے ایک سنگین اور خطرناک بدعت ہے’ رسالہ مذکور میں اسی بدعت سے متعلق چند اہم نکات ذکر کئے گئے ہیں جن کا بغورمطالعہ کرکے ہم اورآپ اس بدعت کی حقیقت سے واقف ہوسکتے ہیں. نہایت ہی اہم تحریرہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

    تاليف : عبدالہادی عبد الخالق مدنی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/333021

    التحميل :محفل میلاد چند قابل غور نکتے

  • حقیقت توحیدحقیقتِ توحید : اس اہم کتاب کے اندراس توحید کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جس کے ساتھ تمام انبیاء ورسل مبعوث کیے گئے, جو بندوں پر اللہ تعالی کا سب سے پہلا حق ہے اور جس کے بغیر آدمی کا کوئی بھی عمل مقبول نہیں. یہ توحید دراصل انسانی فطرت میں جاگزیں ہے لیکن خارجی عوامل کی بناپر اس کے اندر انحراف پیدا ہوجاتاہے. اس فطرت سے انحراف یعنی شرک کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟ اس کے اسباب ومحرکات کیاھیں؟... شرک کے انتشار کا ایک اہم سبب وہ شکوک وشبہات بھی ہیں جن کی بنا پر بہت سے لوگ گمراہی کا شکراہ ہوگئے اور جنہیں وہ اپنے مشرکانہ اعمال کا وجہ جواز سمجھتے ہیں. زیرنظر کتاب میں ایسے ہی بارہ شبہات کی نقاب کشائی کرتے ہوئےان کا مکمل جواب دیا گیاہے, کتاب کے اخیر میں شرک کی مذمت اور دینا وآخرت میں اس کے بھیانک انجام کا تذکرہ ہے.

    تاليف : صالح بن فوزان الفوزان

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    ترجمہ کرنے والا : فضل الهي ظهير - سمير ابراهيم

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/37

    التحميل :حقیقت توحید

  • مقام صحابہ رضی اللہ عنہمجسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - عبد الحى انصارى - طارق محمود ثاقب - محمد خبیب احمد

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/379352

    التحميل :مقام صحابہ رضی اللہ عنہم