اردو - سورہ غاشیہ - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ غاشیہ

اختر القاريء


اردو

سورہ غاشیہ - آیات کی تعداد 26
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ( 1 ) غاشیہ - الآية 1
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ( 2 ) غاشیہ - الآية 2
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ( 3 ) غاشیہ - الآية 3
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً ( 4 ) غاشیہ - الآية 4
دہکتی آگ میں داخل ہوں گے
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ ( 5 ) غاشیہ - الآية 5
ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ ( 6 ) غاشیہ - الآية 6
اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ ( 7 ) غاشیہ - الآية 7
جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ( 8 ) غاشیہ - الآية 8
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ ( 9 ) غاشیہ - الآية 9
اپنے اعمال (کی جزا )سے خوش دل
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ( 10 ) غاشیہ - الآية 10
بہشت بریں میں
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً ( 11 ) غاشیہ - الآية 11
وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے
فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ ( 12 ) غاشیہ - الآية 12
اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے
فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ ( 13 ) غاشیہ - الآية 13
وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے
وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ ( 14 ) غاشیہ - الآية 14
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ ( 15 ) غاشیہ - الآية 15
اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے
وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ ( 16 ) غاشیہ - الآية 16
اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ( 17 ) غاشیہ - الآية 17
یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب )پیدا کیے گئے ہیں
وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ( 18 ) غاشیہ - الآية 18
اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے
وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ( 19 ) غاشیہ - الآية 19
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں
وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ( 20 ) غاشیہ - الآية 20
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ ( 21 ) غاشیہ - الآية 21
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ( 22 ) غاشیہ - الآية 22
تم ان پر داروغہ نہیں ہو
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ ( 23 ) غاشیہ - الآية 23
ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا
فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ ( 24 ) غاشیہ - الآية 24
تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا
إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ( 25 ) غاشیہ - الآية 25
بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ( 26 ) غاشیہ - الآية 26
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

کتب

  • روح, عذاب قبر اور سماع موتی' [ مختلف مکاتب فکرکے معترضین کا مکمل ومدلّل جائزہ ]اس کتاب میں روح,عذاب قبراورسماع موتی' کے بارے میں مختلف مکاتب فکرکے معترضین کے دلائل کا مکمل ومدلل جائزہ لے کریہ ثابت کیا گیا ہے کہ روح ایک حقیقت ہے جوچارمراحل سے ہوکرگزرتی ہے اوریہ مخلوق حادث ہے جوفنا سے دوچارہوتی ہے, اورعذاب قبرکاتعلق روح کے ساتہ جسم سے بھی ہوتا ہےگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو .اورجب اللہ چاہتا ہے تومردے کوسنا دیتا ہے اوراسمیں اس مردہ کی روح کے ارادہ واختیارکا کچھ بھی دخل نہیں ہوتا, اوررہی بات کہ مردے مطلق سنتے ہیں اورتصرفات کا بھی اختیاررکھتے ہیں تویہ عقیدہ قرآن وسنت کی نظرسے درست نہیں ہے.نیزحیات نبی و برزخ وغیرہ کی کیفیت کے بارے میں کسی کوعلم نہیں ہے,یہ اوراس جیسے دیگراخروی مسائل وغیرہ پرسیرحاصل بحث کی گئی ہے.

    تاليف : عبد الرحمن الكيلاني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191309

    التحميل :روح, عذاب قبر اور سماع موتی' [ مختلف مکاتب فکرکے معترضین کا مکمل ومدلّل جائزہ ]

  • کبیرہ گناہ کیا ہیں؟کبیرہ گناہ:یہ ایسے بڑے گناہ ہیں جو صرف سچی توبہ سے ہی معاف ہوسکتے ہیں.اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق نہیں ہے تو،توبہ کی تین شرائط ہیں:1-جس گناہ میں انسان ملّوث ہے اس سے باز آجائے 2-کئے ہوئے گناہ پرندامت وشرمندگی ہو 3-آئندہ اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا عزم ہو- اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق ہو تو چوتھی شرط مزید یہ عائد ہوتی ہے 4-اگرکسی انسان کا حق اسنے چھینا ہو تو اسکا حق لوٹادے ،اگروہ نہ ملے تو اسکے وارثوں کودے اوراگروہ بھی نہ ملیں تو اسکی جانب سے صدقہ وخیرات کردے ،اگرحق لوٹانے کی طاقت نہیں تو اس سے معافی مانگ لے،اگروہ نہ ملے تو اسکے حق میں دعائے مغفرت کرے-زیرنظرکتابچہ میں کبیرہ گنا ہوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ لوگ ان سے بچکراللہ کی وعید سے محفوظ رہ سکیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/368883

    التحميل :کبیرہ گناہ کیا ہیں؟

  • توحید اورہمزیر نظر کتاب میں اللہ کےبارے میں مذاہب باطلہ کا تصور, وسیلہ کی حقیقت اوراسکا طریقہ, معجزہ وکرامت میں فرق اور سفارش کے مستحقین وغیرہ کے بارے میں مدلل اور تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے.

    تاليف : بشير أحمد لودى

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/230115

    التحميل :توحید اورہم

  • حقيقت صوفيتحقيقت صوفيت : یہ کتاب صوفیانہ افکار کا استیصال کرتی ھے جو اسلام کا تیا پانچہ کرنے کے لئے اسلام کے لبادہ میں داخل کیا گیا ھے اور صوفیوں کے عقائد اور سر بستہ راز کی قلعی کھولتی ھے، نیز صوفیوں سے مناظرہ کا طریقہ بھی بیان کیا گیا ھے۔

    تاليف : عبد الرحمن عبد الخالق

    نظر ثانی کرنے والا : مشتاق احمد كريمي

    ترجمہ کرنے والا : صفي الرحمن المباركفوري

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/61688

    التحميل :حقيقت صوفيت

  • پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام [ خطبات مدراس ]پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام (خطبات مدراس) : یہ کتاب دراصل سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں اوراسلام کے پیغام پر مشتمل چند خطبات کا مجموعہ ہے, جو1925ء میں جنوبی ہند کے شہر مدراس میں دیے گیے تھے. سیرت کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں یہ ایک زبردست کتاب ہے, اسلوب بیان نہایت شاندارہے,جودلوں میں ایمان کی مٹھاس پیدا کرتا ہے اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تعلق کو مضبوط بناتا ہے.یہ کتاب سیرت نبوی کے بارے میں مکمل ایک لائبریری کا نچوڑہے. اس کتاب میں ایسے قضایا ومواقف زیر بحث آئے ہیں جن کو بہت کم ہی مولفین اپنی کتابوں میں چھیڑتے ہیں, بالخصوص سیرت نبوی سے متعلق باطل مزاعم کی تردید اور بے سروپا دعوں کی حقیقت کو بے نقاب کرنا وغیرہ. چنانچہ مغربی اہل قلم نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جو زہر افشانی کی ہے اور انہیں طعن وتشنیع کا نشانہ بنایاہےاس کا جائزہ لیتے ہوئے ان خطبات میں اس پر کاری ضرب لگائی گئی ہے, اور یہ ثابت کیا گیاہے کہ صرف سیرت نبوی ہی وہ واحد سیرت ہے جوساری دنیا کے لیے دائمی نمونہ عمل ہے اور دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود کا ضامن ہے.

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191026

    التحميل :پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام [ خطبات مدراس ]