اردو - سورہ فجر - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ فجر

اختر القاريء


اردو

سورہ فجر - آیات کی تعداد 30
وَالْفَجْرِ ( 1 ) فجر - الآية 1
فجر کی قسم
وَلَيَالٍ عَشْرٍ ( 2 ) فجر - الآية 2
اور دس راتوں کی
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ( 3 ) فجر - الآية 3
اور جفت اور طاق کی
وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ( 4 ) فجر - الآية 4
اور رات کی جب جانے لگے
هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ ( 5 ) فجر - الآية 5
اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ( 6 ) فجر - الآية 6
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا
إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ( 7 ) فجر - الآية 7
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ( 8 ) فجر - الآية 8
کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے
وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ( 9 ) فجر - الآية 9
اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے
وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ( 10 ) فجر - الآية 10
اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ( 11 ) فجر - الآية 11
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے
فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ ( 12 ) فجر - الآية 12
اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ( 13 ) فجر - الآية 13
تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ( 14 ) فجر - الآية 14
بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے
فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ( 15 ) فجر - الآية 15
مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ( 16 ) فجر - الآية 16
اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ( 17 ) فجر - الآية 17
نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے
وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ( 18 ) فجر - الآية 18
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو
وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ( 19 ) فجر - الآية 19
اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ( 20 ) فجر - الآية 20
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ( 21 ) فجر - الآية 21
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی
وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ( 22 ) فجر - الآية 22
اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ ( 23 ) فجر - الآية 23
اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ( 24 ) فجر - الآية 24
کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ ( 25 ) فجر - الآية 25
تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ ( 26 ) فجر - الآية 26
اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ( 27 ) فجر - الآية 27
اے اطمینان پانے والی روح!
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ( 28 ) فجر - الآية 28
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ( 29 ) فجر - الآية 29
تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا
وَادْخُلِي جَنَّتِي ( 30 ) فجر - الآية 30
اور میری بہشت میں داخل ہو جا

کتب

  • مقام صحابہ رضی اللہ عنہمجسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - عبد الحى انصارى - طارق محمود ثاقب - محمد خبیب احمد

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/379352

    التحميل :مقام صحابہ رضی اللہ عنہم

  • الرحیق المختومالرحیق المختوم : نبي كريم صلى الله عليہ وسلم کی سیرت طیبہ پر ایک جامع اور بہترین کتاب ہے جسے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام منعقد سیرت نگارى کے عالمی مقابلہ میں اول نمبر پر آنے کا اعزاز حاصل ہے.

    تاليف : صفي الرحمن المباركفوري

    اصدارات : مکتبہ اسلامیہ پاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/78451

    التحميل :الرحیق المختوم

  • متعہ کی حقیقتمتعہ اسلام کے ابتدائی ادوار میں شرعی مصلحت کے پیش نظر دوران سفر میں کافر عورتوں کے ساتھ مباح تھا اسکے بعد ہمیشہ کیلئے قیامت تک حرام قرار دے دیا گیا جیسا کہ شراب ایک زمانے میں حلال تھی مگر اسکے بعد شریعت نے اسے حرام قرار دیدیا اب شراب نوشی باجماع امت حرام ہے اسی طرح متعہ باجماع امت حرام ہے اس میں دورائے نہیں جو اسکے خلاف ہے وہ اجماع امت کے خلاف ہے. لیکن ان نام نہاد فرقوں میں سے کہ جو اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو متعہ کی حرمت سے انکار کرتا اور اسے حلال قراردیتا ہے- اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو پتہ یہ چلتا ہے کہ اسلام اور شریعت محمدیہ کی طرف نسبت کرنے والے تمام کے تمام فرق متعہ کی حرمت کے قائل ہیں یہاں تک کہ شیعی فرقوں میں سے بھی تمام فرق متعہ کی حرمت کے قائل ہیں سوائے اثنا عشریہ کے کہ یہ فرقہ اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے کسی صورت میں بھی متعہ کی حرمت کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے.زیر مطالعہ کتاب میں انہیں کے باطل شبہات اور جھوٹے اتہامات کا شرعی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے.

    تاليف : عثمان الخميس

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    ترجمہ کرنے والا : فضل الرحمن رحمانى ندوى

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/293404

    التحميل :متعہ کی حقیقت

  • کبیرہ گناہ کیا ہیں؟کبیرہ گناہ:یہ ایسے بڑے گناہ ہیں جو صرف سچی توبہ سے ہی معاف ہوسکتے ہیں.اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق نہیں ہے تو،توبہ کی تین شرائط ہیں:1-جس گناہ میں انسان ملّوث ہے اس سے باز آجائے 2-کئے ہوئے گناہ پرندامت وشرمندگی ہو 3-آئندہ اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا عزم ہو- اگرگناہ کسی انسان کے حق سے متعلق ہو تو چوتھی شرط مزید یہ عائد ہوتی ہے 4-اگرکسی انسان کا حق اسنے چھینا ہو تو اسکا حق لوٹادے ،اگروہ نہ ملے تو اسکے وارثوں کودے اوراگروہ بھی نہ ملیں تو اسکی جانب سے صدقہ وخیرات کردے ،اگرحق لوٹانے کی طاقت نہیں تو اس سے معافی مانگ لے،اگروہ نہ ملے تو اسکے حق میں دعائے مغفرت کرے-زیرنظرکتابچہ میں کبیرہ گنا ہوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ لوگ ان سے بچکراللہ کی وعید سے محفوظ رہ سکیں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/368883

    التحميل :کبیرہ گناہ کیا ہیں؟

  • أهل سنت والجماعت كا عقيدهارکان ایمان,مراتب تقدیر,اللہ کی طرف شرکی نسبت ,معصیت پر تقدیرسے احتجاج,عذاب قبر,عذاب برزخ,جنت وجہنم,پل صراط,,میزان , حوض کوثر,شفاعت عظمى' ,خلفاء راشدین ,اختلاف صحابہ , اللہ ,ملائکہ ,کتب,رسل, یوم آخرت, تقدیروغیرہ پرایمان لانے کے ثمرات اوردیگردینی اموروغیرہ کے بارے میں اہل سنت وجماعت کے عقیدے کو کتاب وسنت کی روشنی میں پڑھئے.

    تاليف : محمد بن صالح العثيمين

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/152878

    التحميل :أهل سنت والجماعت كا عقيده