اردو - سورہ واقعہ - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ واقعہ

اختر القاريء


اردو

سورہ واقعہ - آیات کی تعداد 96
إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ( 1 ) واقعہ - الآية 1
جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ( 2 ) واقعہ - الآية 2
اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ( 3 ) واقعہ - الآية 3
کسی کو پست کرے کسی کو بلند
إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ( 4 ) واقعہ - الآية 4
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ( 5 ) واقعہ - الآية 5
اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں
فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا ( 6 ) واقعہ - الآية 6
پھر غبار ہو کر اُڑنے لگیں
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ( 7 ) واقعہ - الآية 7
اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ
فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ( 8 ) واقعہ - الآية 8
تو داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی چین میں) ہیں
وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ( 9 ) واقعہ - الآية 9
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (گرفتار عذاب) ہیں
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ( 10 ) واقعہ - الآية 10
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
أُولَٰئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ( 11 ) واقعہ - الآية 11
وہی (خدا کے) مقرب ہیں
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ( 12 ) واقعہ - الآية 12
نعمت کے بہشتوں میں
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 13 ) واقعہ - الآية 13
وہ بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہوں گے
وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 14 ) واقعہ - الآية 14
اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے
عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ( 15 ) واقعہ - الآية 15
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ( 16 ) واقعہ - الآية 16
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ( 17 ) واقعہ - الآية 17
نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ( 18 ) واقعہ - الآية 18
یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے لے کر
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ( 19 ) واقعہ - الآية 19
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ( 20 ) واقعہ - الآية 20
اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ( 21 ) واقعہ - الآية 21
اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے
وَحُورٌ عِينٌ ( 22 ) واقعہ - الآية 22
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں
كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ ( 23 ) واقعہ - الآية 23
جیسے (حفاظت سے) تہہ کئے ہوئے (آب دار) موتی
جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 24 ) واقعہ - الآية 24
یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ( 25 ) واقعہ - الآية 25
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ
إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا ( 26 ) واقعہ - الآية 26
ہاں ان کا کلام سلام سلام (ہوگا)
وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ ( 27 ) واقعہ - الآية 27
اور داہنے ہاتھ والے (سبحان الله) داہنے ہاتھ والے کیا (ہی عیش میں) ہیں
فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ ( 28 ) واقعہ - الآية 28
(یعنی) بےخار کی بیریوں
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ ( 29 ) واقعہ - الآية 29
اور تہہ بہ تہہ کیلوں
وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ ( 30 ) واقعہ - الآية 30
اور لمبے لمبے سایوں
وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ ( 31 ) واقعہ - الآية 31
اور پانی کے جھرنوں
وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ ( 32 ) واقعہ - الآية 32
اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں
لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ( 33 ) واقعہ - الآية 33
جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ ان سے کوئی روکے
وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ ( 34 ) واقعہ - الآية 34
اور اونچے اونچے فرشوں میں
إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاءً ( 35 ) واقعہ - الآية 35
ہم نے ان (حوروں) کو پیدا کیا
فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ( 36 ) واقعہ - الآية 36
تو ان کو کنواریاں بنایا
عُرُبًا أَتْرَابًا ( 37 ) واقعہ - الآية 37
(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر
لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 38 ) واقعہ - الآية 38
یعنی داہنے ہاتھ والوں کے لئے
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 39 ) واقعہ - الآية 39
(یہ) بہت سے اگلے لوگوں میں سے ہیں
وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( 40 ) واقعہ - الآية 40
اور بہت سے پچھلوں میں سے
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ( 41 ) واقعہ - الآية 41
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ( 42 ) واقعہ - الآية 42
(یعنی دوزخ کی) لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں
وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ( 43 ) واقعہ - الآية 43
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں
لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ( 44 ) واقعہ - الآية 44
(جو) نہ ٹھنڈا (ہے) نہ خوشنما
إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ( 45 ) واقعہ - الآية 45
یہ لوگ اس سے پہلے عیشِ نعیم میں پڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ( 46 ) واقعہ - الآية 46
اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ( 47 ) واقعہ - الآية 47
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ( 48 ) واقعہ - الآية 48
اور کیا ہمارے باپ دادا کو بھی؟
قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ( 49 ) واقعہ - الآية 49
کہہ دو کہ بےشک پہلے اور پچھلے
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ( 50 ) واقعہ - الآية 50
(سب) ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ( 51 ) واقعہ - الآية 51
پھر تم اے جھٹلانے والے گمرا ہو!
لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ( 52 ) واقعہ - الآية 52
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ( 53 ) واقعہ - الآية 53
اور اسی سے پیٹ بھرو گے
فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ( 54 ) واقعہ - الآية 54
اور اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے
فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ( 55 ) واقعہ - الآية 55
اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں
هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ( 56 ) واقعہ - الآية 56
جزا کے دن یہ ان کی ضیافت ہوگی
نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ( 57 ) واقعہ - الآية 57
ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ( 58 ) واقعہ - الآية 58
دیکھو تو کہ جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے رحم میں) ڈالتے ہو
أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ( 59 ) واقعہ - الآية 59
کیا تم اس (سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں؟
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ( 60 ) واقعہ - الآية 60
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں
عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ( 61 ) واقعہ - الآية 61
کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ( 62 ) واقعہ - الآية 62
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ( 63 ) واقعہ - الآية 63
بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو
أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ( 64 ) واقعہ - الآية 64
تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ( 65 ) واقعہ - الآية 65
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں اور تم باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ( 66 ) واقعہ - الآية 66
(کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ( 67 ) واقعہ - الآية 67
بلکہ ہم ہیں ہی بےنصیب
أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ( 68 ) واقعہ - الآية 68
بھلا دیکھو تو کہ جو پانی تم پیتے ہو
أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ( 69 ) واقعہ - الآية 69
کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرتے ہیں؟
لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ( 70 ) واقعہ - الآية 70
اگر ہم چاہیں تو ہم اسے کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ( 71 ) واقعہ - الآية 71
بھلا دیکھو تو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو
أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ( 72 ) واقعہ - الآية 72
کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں؟
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ( 73 ) واقعہ - الآية 73
ہم نے اسے یاد دلانے اور مسافروں کے برتنے کو بنایا ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 74 ) واقعہ - الآية 74
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرو
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ( 75 ) واقعہ - الآية 75
ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم
وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ( 76 ) واقعہ - الآية 76
اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ( 77 ) واقعہ - الآية 77
کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے
فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ( 78 ) واقعہ - الآية 78
(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا ہوا ہے)
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( 79 ) واقعہ - الآية 79
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ( 80 ) واقعہ - الآية 80
پروردگار عالم کی طرف سے اُتارا گیا ہے
أَفَبِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ( 81 ) واقعہ - الآية 81
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ( 82 ) واقعہ - الآية 82
اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ (اسے) جھٹلاتے ہو
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ( 83 ) واقعہ - الآية 83
بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے
وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ( 84 ) واقعہ - الآية 84
اور تم اس وقت کی (حالت کو) دیکھا کرتے ہو
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ( 85 ) واقعہ - الآية 85
اور ہم اس (مرنے والے) سے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے
فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ( 86 ) واقعہ - الآية 86
پس اگر تم کسی کے بس میں نہیں ہو
تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 87 ) واقعہ - الآية 87
تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ( 88 ) واقعہ - الآية 88
پھر اگر وہ (خدا کے) مقربوں میں سے ہے
فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ ( 89 ) واقعہ - الآية 89
تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 90 ) واقعہ - الآية 90
اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ( 91 ) واقعہ - الآية 91
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ( 92 ) واقعہ - الآية 92
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ( 93 ) واقعہ - الآية 93
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ( 94 ) واقعہ - الآية 94
اور جہنم میں داخل کیا جانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ( 95 ) واقعہ - الآية 95
یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ( 96 ) واقعہ - الآية 96
تو تم اپنے پروردگار بزرگ کے نام کی تسبیح کرتے رہو

کتب

  • دعا کے آداب وشرائط کتاب وسنت کی روشنی میںدعاء کی شرطوں اور قبولیت دعاء کے موانع کے سلسلہ میں یہ ایک مختصر رسالہ ہے جسےمولف نے اپنی کتاب "الذکر والدعاء والعلاج بالرقى" سے منتخب کرکے مستقل کتاب کی شکل دی ہے اور اسمیں کچہ ایسے اہم فوائد کا اضافہ کیا ہے جن کی ایک مسلمان کو اپنی دعا ء میں ضرورت ہوتی ہے- نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني

    نظر ثانی کرنے والا : ابو المکرم عبد الجلیل - شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاونی برائے دعوت وتوعیۃ الجالیات ، قصیم

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/320637

    التحميل :دعا کے آداب وشرائط کتاب وسنت کی روشنی میں

  • شیعوں کا اعتقادزیر نظر مطالعہ کتاب مین شیعوں کے گمراہ کن عقائد کو انہیں کی کتابوں کی روشنی میں ذکر کرکے انکی تردید کی گئی ہے.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/322774

    التحميل :شیعوں کا اعتقاد

  • پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام [ خطبات مدراس ]پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام (خطبات مدراس) : یہ کتاب دراصل سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں اوراسلام کے پیغام پر مشتمل چند خطبات کا مجموعہ ہے, جو1925ء میں جنوبی ہند کے شہر مدراس میں دیے گیے تھے. سیرت کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں یہ ایک زبردست کتاب ہے, اسلوب بیان نہایت شاندارہے,جودلوں میں ایمان کی مٹھاس پیدا کرتا ہے اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تعلق کو مضبوط بناتا ہے.یہ کتاب سیرت نبوی کے بارے میں مکمل ایک لائبریری کا نچوڑہے. اس کتاب میں ایسے قضایا ومواقف زیر بحث آئے ہیں جن کو بہت کم ہی مولفین اپنی کتابوں میں چھیڑتے ہیں, بالخصوص سیرت نبوی سے متعلق باطل مزاعم کی تردید اور بے سروپا دعوں کی حقیقت کو بے نقاب کرنا وغیرہ. چنانچہ مغربی اہل قلم نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جو زہر افشانی کی ہے اور انہیں طعن وتشنیع کا نشانہ بنایاہےاس کا جائزہ لیتے ہوئے ان خطبات میں اس پر کاری ضرب لگائی گئی ہے, اور یہ ثابت کیا گیاہے کہ صرف سیرت نبوی ہی وہ واحد سیرت ہے جوساری دنیا کے لیے دائمی نمونہ عمل ہے اور دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود کا ضامن ہے.

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/191026

    التحميل :پیغمبر اسلام کی سیرت اور پیغام [ خطبات مدراس ]

  • تفسیر السعدی [ تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان ]زیر نظر تفسیر جدید عربی تفاسیر میں ایک نہایت ممتاز تفسیرہے جوحسب ذیل خصوصیات کى حامل ہے: 1- یہ اسرائیلى اورضعیف روایات سے پاک ہے. 2- اسمیں صرفی ونحوی مباحث اورالفاظ کی لغوی تحقیق سے بالعموم احترازکیا گیا ہے. 3- احادیث کے حوالوں کا بھی اسمیں زیادہ التزام نہیں ہے لیکن اسکے باوجود اسکا منہج سلفی تفاسیرکے عین مطابق ہے. 4- فقہی اختلافات سے بھی بالعموم احترازکیا گیا ہے. 5- بغیرکسی ادعا کے ربط آیات کا ایسا التزام ہے جوتکلف وتعمق سے پاک ہے. 6- نہایت سادہ اورسلیس عربی میں آیت کا مفہوم فاضل مفسرنے اپنی خداداد فہم اورقرآنی بصیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے. 7- قصص وواقعات سے عبروحکم کا استنباط بھی خوب اورنہایت عجیب ہے. 8- اسی طرح بعض آیات سے مسائل کا استنباط واستخراج بھی قابل داد ہے. 9- غیرضروری اورلا طائل مباحث سے بھی یہ تفسیرپاک ہے. 10- حشووزائد اورخواہ مخواہ کی طوالت سے اجتناب کیا گیا ہے. مذکورہ خصوصیات کی وجہ سے یہ تفسیرایک منفرد مقام کی حامل اورعرب علماء میں نہایت مقبول اورمعروف ہے.

    تاليف : عبد الرحمن بن ناصر السعدي

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : مكتبة دار السلام

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/184638

    التحميل :تفسیر السعدی [ تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان ]تفسیر السعدی [ تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان ]

  • صحيح مسلمقرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہےاوراس کے بعد دوسری کتاب صحیح مسلم ہے جس کے اندر وارد احادیث کی صحت پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے، جسے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے تین لاکهـ احادیث کے مجموعہ سے منتخب کرکے مرتب کیا ہے. اس عظیم اور مستند ذخیرہ حدیث کو اردو قالب میں پیش کرنے کا کام علامہ وحید الزمان رحمہ اللہ انجام دیا ہے.نیزحاشیہ میں صحیح مسلم کی معروف شرح "شرح النووی" کےملخص اضافہ نےاس کی افادیت کو دوچند کردیاہے.

    تاليف : مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری

    ترجمہ کرنے والا : وحید الزمان

    اصدارات : مکتبہ نعمانیہ اردوبازار لاہور پاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/90713

    التحميل :صحيح مسلمصحيح مسلم