زبان کی حفاظت
زبان اللہ تعالى کی بڑی عظیم نعمت ہے ’اسکے ذریعے انسان چاہے تو اپنی آخرت کیلئے نیکیاں بھی جمع کرسکتا ہے’ اور چاہے تو اپنی آخرت برباد کرسکتا ہے’ اگرکوئی شخص زبان کو صحیح استعمال کرے’ اور کوئی اچھی بات کہے تو اس بات کی وجہ سے اللہ تعالى نہ جانے کتنے درجات بلند کرتا ہے- جب ایک انسان کافر سے مسلمان ہوتا ہے تو وہ اسی زبان کی بدولت ہوتا ہے’ زبان سے کلمہ شہادت پڑھتا ہے’ دیکھیں صرف ایک کلمے سے پہلے جہنمی تھا اب جنتی بن گیا’ اسکے برعکس اگر اس زبان کا ناجائز استعمال ہو’ توپھریہی زبان اسنان کو جہنم میں کھینچ کرلے جاتی ہے’ اسی وجہ سے کثرت کلام سے منع کیا گیا ہے.کتابچہ مذکور میں اسی زبان کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے.نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
کتب
- اہم امور پر تنبیہ-
تاليف : علي بن صالح الجبالي
ترجمہ کرنے والا : مشتاق احمد كريمي
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- نماز میں کی جانے والی غلطیاں اور کوتاہیاںزیر نظر کتاب میں نمازمیں صادرہونے والی تقریبا انسٹھ غلطیوں اورکمیوں کی نشاندھی کردی گئی ہے جوجہالت یافقہی جمودوتعصب کا نتبجہ ہیں جنکی معرفت نمازکی اصلاح کرنے میں معاون ثابت ہوگی نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
نظر ثانی کرنے والا : أبو عدنان محمد منير قمر - سيد طالب الرحمن - شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : http://www.quransunnah.com
- عقیدہ یا جہالت-
تاليف : مشتاق احمد كريمي
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنىزیرنظر کتاب اسماء وصفات کے باب میں سلف صالحین کے عقیدہ پرمشتمل ہے ، اسميں اسماء وصفات کے تعلق سے انتہائی اہم قواعد ،اوربہت سے علمی نکات ذکر کئے گئے ہیں ، خاص طورپر قرآن وحدیث میں وارد اللہ تعالى کی صفت معیت اور اسکی دونوں قسموں : معیت خاصہ اور معیت عامہ کا اہل السنۃ والجماعۃ سلف صالحین کی روشنی میں بڑی نفیس بحث موجود ہے ، اسکے ساتھ ساتھ اس نافع کتاب میں فرق باطلہ معطلہ ، مشبہ ، حلولیہ اور قائلین وحدۃ الوجود کا انتہائی قوی اور مدلل رد موجود ہے .اسماء وصفات کے باب میں عصرحاضر کی سب سے عمدہ تصنیف ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : محمد بن صالح العثيمين
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- رياض الاخلاقکتاب"ریاض الاخلاق" کے مصنف اخبار"اہلحدیث" کے مشہورمقالہ نگارمولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی ہیں-کتاب واقعی اسم بامسّمى ہے علم اخلاق پربے شمارکتابیں نئے اورپرانے زمانہ میں لکھی جاچکی ہیں- جن میں سے بعض نے اچھی شہرت پائی ہے-مگراس کتاب میں جوخوبی ہم دیکھتے ہیں-وہ دوسری کتابوں میں بہت کم نظرآتی ہے-مصنف نے اخلاق کا کوئی پہلونہیں چھوڑا-اخلاق فاضلہ کی جوتشریح کی گئی ہے- وہ قابل تحسین ہے’پھراخلاقی مضامین کے علاوہ اسلامى آداب اورتہذیب کوایسے شگفتہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے- کہ کتاب کو خود بخود پڑھنے کوجی چاہتا ہے-کئ سوعنوانوں پرمشتمل ہے-جسمیں احادیث نبویہ اورآیات قرآنیہ کا دریا موجیں مارتا ہوا نظرآتا ہے-حقیقت میں یہ کتاب واعظوں اورخطیبوں کی جان ہے’ہرمسجد ومجلس میں سنائے جانے کے قابل ہے-کتنا ہی سنگ دل سے سنگ دل انسان ہو-وہ بھی اس کتاب کو پڑھ کرمتاثرہوجائے گا- اللہ تعالى مصنف کوجزائے خیردے’کہ انہوں نے عوام وخواص کی تہذیب اسلامی’اورآداب شریعت’ اوراخلاق فاضلہ کواپنانے کیلئے شستہ زبان میں’خطیبانہ رنگ میں’ایک ایسے زمانہ میں یہ کتاب تحریرفرمائی ہے-جبکہ انسانی اخلاق پامال ہورہے ہیں- انسانیت گررہی ہے’اس کتاب کا مطالعہ ’انسان کو سنجیدہ اوربااخلاق بننے کیلئے نہایت مفید ثابت ہوگا.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی












