اردو - سورہ رحمن

قرآن کریم » اردو » سورہ رحمن

اردو

سورہ رحمن - آیات کی تعداد 78
الرَّحْمَٰنُ ( 1 ) رحمن - الآية 1
(خدا جو) نہایت مہربان
عَلَّمَ الْقُرْآنَ ( 2 ) رحمن - الآية 2
اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی
خَلَقَ الْإِنسَانَ ( 3 ) رحمن - الآية 3
اسی نے انسان کو پیدا کیا
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ( 4 ) رحمن - الآية 4
اسی نے اس کو بولنا سکھایا
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ( 5 ) رحمن - الآية 5
سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ( 6 ) رحمن - الآية 6
اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ( 7 ) رحمن - الآية 7
اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ( 8 ) رحمن - الآية 8
کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ( 9 ) رحمن - الآية 9
اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور تول کم مت کرو
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ( 10 ) رحمن - الآية 10
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ( 11 ) رحمن - الآية 11
اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ( 12 ) رحمن - الآية 12
اور اناج جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 13 ) رحمن - الآية 13
تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ( 14 ) رحمن - الآية 14
اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ( 15 ) رحمن - الآية 15
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 16 ) رحمن - الآية 16
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ( 17 ) رحمن - الآية 17
وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 18 ) رحمن - الآية 18
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ( 19 ) رحمن - الآية 19
اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ( 20 ) رحمن - الآية 20
دونوں میں ایک آڑ ہے کہ (اس سے) تجاوز نہیں کرسکتے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 21 ) رحمن - الآية 21
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ( 22 ) رحمن - الآية 22
دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 23 ) رحمن - الآية 23
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ( 24 ) رحمن - الآية 24
اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 25 ) رحمن - الآية 25
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ( 26 ) رحمن - الآية 26
جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ( 27 ) رحمن - الآية 27
اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 28 ) رحمن - الآية 28
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ( 29 ) رحمن - الآية 29
آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 30 ) رحمن - الآية 30
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ( 31 ) رحمن - الآية 31
اے دونوں جماعتو! ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 32 ) رحمن - الآية 32
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ( 33 ) رحمن - الآية 33
اے گروہِ جن وانس اگر تمہیں قدرت ہو کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔ اور زور کے سوا تم نکل سکنے ہی کے نہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 34 ) رحمن - الآية 34
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ( 35 ) رحمن - الآية 35
تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 36 ) رحمن - الآية 36
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ( 37 ) رحمن - الآية 37
پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی تلچھٹ کی طرح گلابی ہوجائے گا (تو) وہ کیسا ہولناک دن ہوگا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 38 ) رحمن - الآية 38
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ( 39 ) رحمن - الآية 39
اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پرسش کی جائے گی اور نہ کسی جن سے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 40 ) رحمن - الآية 40
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ( 41 ) رحمن - الآية 41
گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 42 ) رحمن - الآية 42
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ( 43 ) رحمن - الآية 43
یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ( 44 ) رحمن - الآية 44
وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 45 ) رحمن - الآية 45
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ( 46 ) رحمن - الآية 46
اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 47 ) رحمن - الآية 47
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ( 48 ) رحمن - الآية 48
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 49 ) رحمن - الآية 49
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ( 50 ) رحمن - الآية 50
ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 51 ) رحمن - الآية 51
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ( 52 ) رحمن - الآية 52
ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 53 ) رحمن - الآية 53
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ( 54 ) رحمن - الآية 54
(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 55 ) رحمن - الآية 55
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ( 56 ) رحمن - الآية 56
ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 57 ) رحمن - الآية 57
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ( 58 ) رحمن - الآية 58
گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 59 ) رحمن - الآية 59
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ( 60 ) رحمن - الآية 60
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 61 ) رحمن - الآية 61
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ( 62 ) رحمن - الآية 62
اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 63 ) رحمن - الآية 63
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُدْهَامَّتَانِ ( 64 ) رحمن - الآية 64
دونوں خوب گہرے سبز
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 65 ) رحمن - الآية 65
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ( 66 ) رحمن - الآية 66
ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 67 ) رحمن - الآية 67
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ( 68 ) رحمن - الآية 68
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 69 ) رحمن - الآية 69
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ( 70 ) رحمن - الآية 70
ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 71 ) رحمن - الآية 71
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ( 72 ) رحمن - الآية 72
(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 73 ) رحمن - الآية 73
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ( 74 ) رحمن - الآية 74
ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 75 ) رحمن - الآية 75
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ( 76 ) رحمن - الآية 76
سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( 77 ) رحمن - الآية 77
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ( 78 ) رحمن - الآية 78
(اے محمدﷺ) تمہارا پروردگار جو صاحب جلال وعظمت ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے

کتب

  • قبروں پرمساجد اور اسلامزیرنظرکتاب محدث عصر,ذہبی زماں ,وقت کے ابن حجرعلامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی ان نادرومایہ نازتا لیفات میں سے ایک ہے جسکے اندرقبروں پرمساجد تعمیرکرنے,ان پرنمازپڑھنےاوردعامانگنے,قرآن کی تلاوت کرنے, قبرنبوی - صلى الله عليه وسلم - کے مسجد نبوی میں داخل ہونے, نیزقبوریوں کے شبہات اورانکی مزعومہ حجتوں وغیرہ کے جوابات قرآن وحدیث کے محکم دلائل اورائمہ کرام وعلمائے سلف کے اقوال کی روشنی میںتفصیلی اورتحقیقی طورپردئے گئے ہیں اس کتاب کا مطالعہ انصاف پسند قبرپرست شخص کے لئے ہدایت ومشعل راہ ثابت ہوگی. ضرورپڑھیں اوردعائیں دیں.

    تاليف : محمد ناصر الدين الألباني

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    ترجمہ کرنے والا : محفوظ الرحمن فیضى

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/156374

    التحميل :قبروں پرمساجد اور اسلام

  • المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال [ مختصر منهاج السنة ]نصیرالدین طوسی کے خصوصی شا گرد معروف شیعہ عالم حسن بن یوسف بن على بن المطہرالمحلى (648,726) نے " منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الإمۃ" کے نام سے ایک کتاب لکھی جو اہل سنت اور شیعہ کے درمیان متنازع مسائل پر مشتمل تھی – اس کتاب میں موضوع روایات کو بے دریغ بیان کیا کیا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنا کراپنے خبث باطن کا بھرپورمظاہرہ کیا گیا تھا- شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کتاب کے رد میں "منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والإعتزال" کے نام سے چارجلدوں پرمشتمل ایک کتاب تحریرکی جو لوگوں میں منہاج السنۃ کے نام سے مشہورومعروف ہوئی- چونکہ کتاب ضخیم تھی اسلئے استفادہ میں آسانی کرنے کیلئے ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کتاب کا خلاصہ "المنتقى" کے نام سے تیارکیا اور سرزمین شام کے مشہور عالم محب الدین الخطیب رحمہ اللہ نے المنتقى کے قلمی نسخہ کی منہاج السنۃ مطبوعہ بولاق سے تقابل کرکے تصحیح کا اہتمام کیا – اصحاب الرسول صلى اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دفاع میں بے مثال کتا ب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : شمس الدين الذهبي - شيخ الاسلام ابن تيمية

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/311412

    التحميل :المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال [ مختصر منهاج السنة ]

  • صحيح مسلمقرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہےاوراس کے بعد دوسری کتاب صحیح مسلم ہے جس کے اندر وارد احادیث کی صحت پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے، جسے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے تین لاکهـ احادیث کے مجموعہ سے منتخب کرکے مرتب کیا ہے. اس عظیم اور مستند ذخیرہ حدیث کو اردو قالب میں پیش کرنے کا کام علامہ وحید الزمان رحمہ اللہ انجام دیا ہے.نیزحاشیہ میں صحیح مسلم کی معروف شرح "شرح النووی" کےملخص اضافہ نےاس کی افادیت کو دوچند کردیاہے.

    تاليف : مسلم بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری

    ترجمہ کرنے والا : وحید الزمان

    اصدارات : مکتبہ نعمانیہ اردوبازار لاہور پاکستان

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/90713

    التحميل :صحيح مسلمصحيح مسلم

  • فقہ صیامکتاب مذکور میں روزہ کے احکام ومسائل کو سوال وجواب کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے نہایت ہی عمدہ کتاب ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

    تاليف : عبدالہادی عبد الخالق مدنی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : دفتر تعاونی برائے دعوت وتوعیۃ الجالیات ، احساء

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/365715

    التحميل :فقہ صیام

  • عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟يوم عاشوراء کو عہد رسالت ہی سے عید وسروركادن قراردیا گیا ہے لہذا ان ایام کو گریہ وماتم ورنج والم کے ایام قراردینا سراسر کفران نعمت ہے-خواہ ان میں کیسا ہی غم انگیزحادثہ رونما ہوجائے-لیکن ان ایام کی مستقل حیثیت وہی رہے گی جو اسلام نے ٹہرائی ہے مگرافسوس ! کہ امت مسلمہ کے ایک طبقہ نے یوم عاشوراء سے بالکل نا آشنا ہوکر غلط اور باطل افکارکا شکارہوکر اسے مستقل طور پرغم والم کا دن قراردیدیا ہے اورمختلف قسم کے شرک وبدعت اورگناہ میں ملوّث نظرآتا ہے. زیرنظرکتاب شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کی محرّم کے باب میں سب سے جامع اورمانع کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/190995

    التحميل :عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟

اختر اللغة

اختر سورہ

کتب

اختر تفسير

المشاركه

Bookmark and Share